فلینڈرز یونیورسٹی کی تحقیق میں خراٹوں اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان واضح تعلق ظاہر ہوا، جس سے فالج کا خطرہ دوگنا ہو سکتا ہے۔
نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ نیند کے دوران خراٹوں کا مسئلہ اکثر جان لیوا ہائی بلڈ پریشر کی ابتدائی علامت ہوتا ہے، جو فالج اور دل کی ناکامی کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
امریکا میں فلینڈرز یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا کہ درمیانی عمر کے مردوں میں خراٹوں سے بلڈ پریشر بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں نیند کی مانیٹرنگ کے ذریعے خراٹوں اور بلڈ پریشر کے تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے مطابق 15 فیصد افراد، جن کا وزن زیادہ تھا، رات میں اوسطاً 20 فیصد زیادہ خراٹے لیتے تھے۔ محققین نے بتایا کہ خراٹوں اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان واضح تعلق موجود ہے اور اس پر قابو پانا ضروری ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ خراٹوں کا معمول بن جانا خطرناک ہو سکتا ہے، اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ان پر قابو پانا چاہیے۔ ورزش کا طویل دورانیہ بلڈ شوگر کو بھی کنٹرول میں رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ تحقیق کے نتائج نیچر ڈیجیٹل میڈیسن جرنل میں شائع ہوئے ہیں۔ خراٹوں سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ تقریباً دوگنا بڑھ جاتا ہے، اس لیے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔















