مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال دماغی صحت کے لیے خطرہ، نئی تحقیق میں انکشاف

تحقیق کے مطابق مصنوعی مٹھاس کے استعمال سے دماغی صحت متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر 60 سال سے کم عمر افراد میں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال دماغی صحت کے لیے خطرہ، نئی تحقیق میں انکشاف

نیویارک: (رائیٹ ناؤ نیوز) ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ اجزا عام طور پر چینی کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، لیکن ان کے اثرات دماغی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے میں شائع ہوئی، جس میں 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس کی نگرانی کی گئی۔ تحقیق میں سات عام مصنوعی مٹھاس کے اجزا، جیسے ایسپارٹیم اور سیکرین کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے مطابق روزانہ 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والوں میں یادداشت کی کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ پائی گئی۔ درمیانی مقدار میں استعمال کرنے والوں میں یہ خطرہ 35 فیصد زیادہ تھا۔

یہ نتائج 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں رہے۔ محققین نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر چینی کے بجائے استعمال ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ تحقیق کے مطابق صرف ٹیگاٹوز کا تعلق ذہنی صلاحیتوں کی تیز رفتار کمی سے نہیں پایا گیا۔ محققین نے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں