اسٹیٹ بینک نے لائسنس یافتہ کرپٹو کمپنیوں کو بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے محدود بینکاری سہولت ممکن ہوگی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسٹیٹ بینک نے ورچوئل اثاثہ شعبے کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات کے مطابق لائسنس یافتہ اداروں کو بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت مل گئی ہے۔
یہ ہدایات بی پی آر ڈی سرکلر لیٹر نمبر 10 آف 2026 کے تحت جاری کی گئی ہیں۔ قبل ازیں 2018 کے سرکلر میں ورچوئل کرنسیز یعنی کرپٹؤ کرنسی یا ٹوکنز کے ذریعے لین دین پر پابندی تھی، مگر اب لائسنس یافتہ اداروں کو محدود بینکاری کی اجازت ہے۔
اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ ادارے کے لائسنس کی تصدیق کریں اور مکمل جانچ پڑتال کریں۔ خطرے کی درجہ بندی اور مسلسل نگرانی بھی لازم ہے۔
Pakistan has taken an important step toward formalising its virtual asset ecosystem.
Following the enactment of the Virtual Assets Act, 2026, the State Bank of Pakistan has issued BPRD Circular Letter No. 10 of 2026, enabling regulated entities to open and maintain bank accounts… pic.twitter.com/cuUhwSiCfS
— Pakistan Virtual Assets Regulatory Authority (@PakistanVARA) April 14, 2026
سرکلر کے مطابق مخصوص لین دین اکاؤنٹس کھولے جائیں گے، جن میں نقد جمع کروانے ، نکلوانے اور قرض کے لیے ضمانت کی اجازت نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ نئی پالیسی کے تحت مکمل آزادی نہیں دی گئی بلکہ ضابطہ بند رسائی فراہم کی گئی ہے تاکہ لائسنس یافتہ ورچوئل اثاثہ فراہم کنندگان کو محدود بینکاری سہولت مل سکے۔















