امریکی فوج نے ایران کی سمندری تجارت معطل کرنے کا دعویٰ کیا، ایرانی میڈیا نے تردید کی۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی سمندری تجارت مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم ایرانی میڈیا نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی نافذ کی جائے گی۔ امریکی فوج کے مطابق اس ناکہ بندی پر پیر سے عمل درآمد شروع ہو چکا ہے اور 36 گھنٹوں کے اندر تجارت معطل کر دی گئی ہے۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے یہ پابندی صرف ایران کے لیے ہے، دیگر جہازوں کی نقل و حرکت متاثر نہیں ہوگی۔ بیان کے مطابق ابتدائی 24 گھنٹوں میں کوئی جہاز رکاوٹ عبور نہیں کر سکا۔
یہ اقدام خطے کی اقتصادی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے کیونکہ خلیج فارس عالمی تجارت کا اہم مرکز ہے۔
واضح رہے کہ ایران کے سرکاری ٹی وی نے بیان دیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں پر جہازوں کی آمدورفت جاری ہے، جس میں کم از کم چار جہازوں نے آبنائے ہرمز استعمال کیا ہے۔











