ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی پاکستان میں آئندہ دو دن میں بحالی کا عندیہ دیا، تاہم باضابطہ تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ سے گفتگو میں عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی پاکستان میں آئندہ دو دن میں ممکن ہو سکتی ہے۔ تاہم، امریکی حکومت کی جانب سے باضابطہ تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مزید مذاکرات آئندہ 2 روز میں پاکستان میں ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس مقصد کے لیے پاکستان ایک موزوں ترین مقام ہے۔ انہوں نے پاکستان کے فیلڈ مارشل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور لاجواب ہیں، اسی لیے پاکستان جانے کا امکان زیادہ ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایسے ملک میں جانے کا کوئی جواز نہیں جس کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔
ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے پہلے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے تھے۔ نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکہ نے ایران کو یورینیم افزودگی پر 20 سالہ وقفے کی تجویز دی تھی۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی اور پاکستانی حکام نے دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے رابطوں کے جاری ہونے کا عندیہ دیا ہے، مگر واشنگٹن کی جانب سے رسمی تصدیق کا انتظار ہے۔ پاکستان نے دونوں ممالک کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز دی ہے۔
مذاکرات کی تعطل کی وجوہات میں آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں کے اختلافات شامل ہیں۔ امریکی فریق نے اپنے مؤقف کو حتمی قرار دیا ہے، جبکہ ایرانی جانب سے بعض مطالبات ناقابل قبول کہے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 8 اپریل 2026 کے بعد پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات امریکہ اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہ راست اعلیٰ سطح رابطے کی ایک اہم کوشش سمجھے جا رہے ہیں۔













