پشاور ہائی کورٹ نے سیاسی جلسوں میں سرکاری وسائل کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیا ہے، جو عوامی فلاح کے لیے مختص ہیں۔
پشاور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پشاور ہائی کورٹ نے سیاسی جلسوں میں سرکاری وسائل کے استعمال کے خلاف کیس میں 28 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔ جسٹس صاحبزادہ اسداللہ پر مشتمل بنچ نے سرکاری ملازمین، وسائل اور مشینری کے سیاسی استعمال کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ صوبے کا وزیر اعلیٰ سرکاری وسائل کا آئینی نگران اور محافظ ہوتا ہے، جبکہ سرکاری ملازمین اور وسائل کا استعمال صرف عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ سرکاری مشینری کا استعمال آئین میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
عدالت نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی ہے کہ تمام اداروں کو آئین اور قانون کے دائرے میں کام کرنے کا پابند بنایا جائے اور یقینی بنایا جائے کہ سرکاری ملازمین، وسائل اور مشینری کسی سیاسی مقصد کے لیے استعمال نہ ہوں۔ عدالت نے آئی جی خیبر پختونخوا کو بھی ہدایت کی کہ پولیس کا کسی بھی سیاسی مقصد کے لیے استعمال نہ ہونے کو یقینی بنایا جائے۔
یہ فیصلہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ اس سے سیاسی جلسوں میں سرکاری وسائل کے غلط استعمال کو روکا جا سکے گا، جو کہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے مختص ہونے چاہئیں۔
واضح رہے کہ سرکاری وسائل کا سیاسی استعمال آئین و قانون کے خلاف ہے اور اس کے خلاف عدالت میں کئی مقدمات بھی دائر کیے گئے ہیں۔















