بی بی سی تحقیق میں برطانیہ میں جعلی ہم جنس پرست پناہ کیس بنانے کا انکشاف۔ قانونی مشیر من گھڑت کہانیاں اور جعلی ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
لندن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بی بی سی نیوز کی خفیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ برطانیہ میں بعض قانونی مشیر اور امیگریشن معاونین تارکین وطن کو جعلی ہم جنس پرست پناہ کیس بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔ ان افراد کو من گھڑت کہانیاں اور جعلی ثبوت فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ وہ برطانیہ میں قیام جاری رکھ سکیں۔
رپورٹ کے مطابق ایسے جعلی کیسز کے لیے فیس 1,500 سے 7,000 پاؤنڈ تک وصول کی گئی۔ مبینہ طور پر تصاویر، سپورٹنگ لیٹرز اور دیگر شواہد فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی۔
برطانوی محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ نظام کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی اور ایسے افراد کو ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ پناہ کا نظام سخت جانچ کے تحت چلتا ہے اور حقیقی خطرے سے دوچار افراد کو ہی تحفظ دیا جانا چاہیے۔
رپورٹ میں شامل برطانوی ہوم آفس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2023 میں جنسی رجحان کی بنیاد پر دائر پناہ درخواستوں میں پاکستان 578 کیسز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ بنگلہ دیش 175 اور نائجیریا 103 درخواستوں کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
Legal advisers help migrants pose as gay to get asylum, undercover BBC investigation finds https://t.co/33ujvSDzRk
— BBC Breaking News (@BBCBreaking) April 15, 2026
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایسے کیسز میں ملوث افراد میں اکثریت ان کی ہے جو اسٹوڈنٹ، ورک یا وزٹ ویزا پر آئیں۔ ویزا ختم ہونے پر پناہ کے نظام کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔
بی بی سی نے کمیونٹی گروپوں اور بعض مشیروں کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بعض افراد نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اندرونی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں ہم جنس تعلقات جرم ہیں، جس کی وجہ سے جعلی دعوے حقیقی متاثرین کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔












