وفاقی آئینی عدالت نے گلگت بلتستان مجوزہ قانون سازی کا ریکارڈ طب کر لیا

آئینی عدالت نے گلگت بلتستان حکومت سے قانون سازی کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وضاحت کی ضرورت ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
گلگت بلتستان حکومت، آئینی عدالت نے قانون سازی کا ریکارڈ طلب کیا

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے گلگت بلتستان سے متعلق مجوزہ قانون سازی پر سماعت کرتے ہوئے موجودہ اور مجوزہ قانون سازی کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ قانون سازی کے لیے عدالت سے اجازت کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس معاملے پر گلگت بلتستان کے سینئر سیاستدانوں سے مشاورت کی جانی چاہیے۔ حکومت قانون سازی کی مجاز ہے، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کچھ امور پر وضاحت ضروری ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بتایا کہ حکومت قانون سازی کر سکتی ہے، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے کچھ معاملات میں اجازت درکار ہوتی ہے۔ مجوزہ قانون سازی میں گلگت بلتستان کے چیف جج اور دیگر ججز کی پنشن کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے ارکان کی مدت پانچ سال مقرر کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے پوچھا کہ قانون سازی کے پروپوزل کی تفصیلات کیا ہیں؟

واضح رہے کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے جسے حکومت کو خود حل کرنا چاہیے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کی بحث عدالت میں لائی گئی تو نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔

دیگر متعلقہ خبریں