بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریاؤں کے پانی کے اعداد و شمار شیئر کرنا بند کر دیا، جس سے پاکستان کی واٹر مینجمنٹ متاثر ہو رہی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارت نے پاکستان کے ساتھ دریاؤں کے پانی کے اعداد و شمار شیئر کرنا تقریباً بند کر دیا ہے، جو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت اب صرف سیلاب کی سطح کی معلومات فراہم کرتا ہے، لیکن کیوسک میں بہاؤ کے اعداد و شمار نہیں دیتا۔
سیکرٹری وزارت آبی وسائل نے کہا ہے کہ بھارت انڈس واٹر کمشنر کے ذریعے معلومات فراہم کرنے کے بجائے دفترِ خارجہ کے راستے رابطہ کرتا ہے، جو معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ صحیح اعداد و شمار کی عدم موجودگی کے باعث پاکستان کو سیٹلائٹ امیجز پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس میں تقریباً 25 فیصد تک فرق آتا ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق، مئی میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے بعد بھارت نے اگست اور ستمبر میں پاکستان سے رابطہ کیا، لیکن فراہم کردہ معلومات ادھوری تھیں۔ حکام کے مطابق یہ روش سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی ہے، جو پاکستان کی واٹر مینجمنٹ اور حفاظتی انتظامات کو متاثر کر رہی ہے۔














