5جی نیلامی کے لیے امریکی کنسلٹنٹ کی رپورٹ حکومت کو پیش، عدالتی فیصلہ موخر، 2600MHz بینڈ کی عدالتی رکاوٹ شامل۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) 5جی سپیکٹرم نیلامی کے لیے مقرر کردہ امریکی کنسلٹنٹ نے رپورٹ حکومت کو پیش کر دی ہے، مگر سپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی (SAC) کا اجلاس وکلا کی ہڑتال کے باعث منعقد نہ ہو سکا۔ وزارتِ آئی ٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ وزیرِاعظم کی مقرر کردہ 15 فروری کی ڈیڈ لائن پوری کرے گی۔
نیلامی میں سب سے بڑی رکاوٹ 2600MHz بینڈ سے متعلق عدالتی مقدمہ ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ وکلا کی ہڑتال کی وجہ سے مؤخر ہو گیا ہے، اب اگلے ہفتے متوقع ہے۔ کنسلٹنٹ کی رپورٹ پہلے ہی تاخیر کا شکار تھی، جس کی وجوہات زیرِ التوا عدالتی فیصلہ اور ٹیلی نار پاکستان و پی ٹی سی ایل کے انضمام کا عمل ہیں۔
امریکی فرم نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس (NERA) نے SAC کے اجلاس میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کی، جس میں 5جی سروسز کے آغاز کے لیے مختلف ماڈیولز تجویز کیے گئے۔ رپورٹ میں بیس پرائس زیادہ رکھ کر فوری ریونیو یا کم رکھ کر نیٹ ورک میں سرمایہ کاری کی گنجائش دینے کی تجاویز شامل ہیں۔
رپورٹ میں ٹیلی کام سیکٹر پر 37 فیصد ٹیکس کو زیادہ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈیٹا کی طلب بڑھ رہی ہے۔ NERA کے مطابق، پاکستان 606MHz نیا اسپیکٹرم چھ بینڈز میں پیش کر رہا ہے، جن میں 2600MHz بینڈ 5جی کے لیے سب سے موزوں ہے۔
عدالتی فیصلہ آتے ہی SAC اندرونی مشاورت کرے گی اور حتمی پلان ECC کو بھیجے گی، جس کے بعد معاملہ وفاقی کابینہ جائے گا۔ کابینہ کی منظوری کے بعد وزارتِ آئی ٹی سپیکٹرم نیلامی کے پالیسی ڈائریکٹو جاری کرے گی۔















