غزہ میں بین الاقوامی فورس کے قیام پر مذاکرات جاری، قانونی حیثیت پر خدشات۔
نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کے قیام پر مذاکرات جاری ہیں، تاہم اس کے مینڈیٹ اور قانونی حیثیت سے متعلق سنجیدہ خدشات سامنے آئے ہیں۔ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک نے فورس کے دائرہ کار پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے اور اسرائیلی اقدامات کو دو ریاستی حل کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا کہ فلسطینی عوام غیر قانونی قبضے اور حقوق کی نفی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ غزہ کی صورتحال بگڑ چکی ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اسرائیلی آبادکاری دو ریاستی حل کی گنجائش کو ختم کر رہی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے قطر میں اجلاس منعقد کیا، جس میں شراکت دار ممالک نے شرکت کی۔ واشنگٹن تقریباً 10000 فوجیوں پر مشتمل کثیر القومی فورس تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم کوئی ملک فوج فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
بین الاقوامی سطح پر فورس کی قانونی حیثیت پر حساسیت پائی جاتی ہے۔ اسٹمسن سینٹر کی رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ فورس کو اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت تشکیل دیا جائے تو تحفظات کم ہو سکتے ہیں۔
فورس کے ممکنہ فرائض میں جنگ بندی کی نگرانی، مقامی سکیورٹی کی معاونت اور انسانی امداد کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کامیابی کے لیے بڑی طاقتوں کی مسلسل حمایت ضروری ہو گی۔

![غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی فورس کے قیام پر خدشات [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/12156_2025-12-17_06-05-25.webp)













