ماہرین نے پاکستان میں مرچ میں افلاٹاکسن بی ون کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی ہے، جو سرطان کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف صحت بلکہ معیشت کے لیے بھی خطرہ ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) پاکستان میں استعمال ہونے والی مرچ میں افلاٹاکسن بی ون (Aflatoxin B1) کی خطرناک حد تک موجودگی پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، شدید گرمی اور خشک سالی مرچ کی فصل میں زہریلی پھپھوندی کی افزائش کا سبب بن رہی ہیں۔
حالیہ رپورٹوں کے مطابق اسپرگلس فلیوس( Aspergillus flavus) نامی پھپھوندی مرچ میں افلاٹاکسن بی ون پیدا کرتی ہے، جو سرطان پیدا کرنے والے مادوں میں شامل ہے۔ مختلف ریسرچز میں پسی ہوئی مرچ میں 80 مائیکروگرام فی کلوگرام افلاٹاکسن کی مقدار ریکارڈ ہوئی ہے۔
کچھ مرچ کی مصنوعات پر "صرف پاکستان میں قابل استعمال” کا لیبل درج ہے، جو بین الاقوامی معیار پر پورا نہ اترنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین نے ناقص خوراک کو عوامی صحت اور معیشت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سخت فوڈ سیفٹی معیارات، باقاعدہ لیبارٹری جانچ اور مؤثر نگرانی ضروری ہیں۔ یہ اقدامات مرچ سمیت غذائی اشیا کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کسانوں کو محفوظ کاشت کے جدید طریقوں کی تربیت دی جائے۔ خوراک کے معیار کی نگرانی کو سائنسی بنیادوں پر مؤثر بنانا ضروری ہے تاکہ صحت عامہ کے بحران سے بچا جا سکے۔















