سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اطلاعات تک رسائی قانون کیس کی سماعت سے معذرت کر لی۔ نئے بینچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو معاملہ بھیج دیا گیا۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اطلاعات تک رسائی کے قانون پر عمل درآمد کے کیس کی سماعت سے معذرت کر لی ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس یوسف سعید اور جسٹس عثمان علی ہادی نے ہدایت کی کہ کیس کو آئندہ بینچ کے کسی رکن کے سامنے نہ پیش کیا جائے۔
درخواست گزار ڈاکٹر مرتضیٰ کھوڑو نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کے حکم پر عملدرآمد کے لیے دائر درخواست کو 4 سال گزر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے سیکشن 6 کے تحت تمام محکموں پر معلومات عام کرنا لازم ہے، تاہم محکمے قانون کے مطابق عمل نہیں کر رہے۔
بینچ نے معاملہ چیف جسٹس کو بھیجنے کی ہدایت کی تاکہ نئے بینچ کی تشکیل ممکن ہو سکے۔ عدالت نے متعلقہ محکموں کو قانون کے مطابق معلومات فراہم کرنے کا حکم دینے کی درخواست کی تھی۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں عدالت کا کردار اہم ہے کیونکہ یہ شفافیت اور عوامی شرکت کو یقینی بنانے کا معاملہ ہے۔
واضح رہے کہ اطلاعات تک رسائی کا قانون حکومت کی شفافیت بڑھانے اور کرپشن کی روک تھام کے لیے بنایا گیا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد میں مختلف رکاوٹیں سامنے آ رہی ہیں۔















