جیفری ڈی ساکس نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگیں امریکا اور اسرائیل کی دانستہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔
انطالیہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی ماہرِ معاشیات جیفری ڈی ساکس نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگیں امریکا اور اسرائیل کی طویل مدتی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں دوران خطاب کیا۔
جیفری ڈی ساکس، جو کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر اور سینٹر فار سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر ہیں، نے کہا کہ اسرائیل کی حکومت کی خواہش ہے کہ پورے مشرق وسطیٰ کو اسرائیل کے تصور کے مطابق ڈھالا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسی مخالف حکومتوں کو کمزور کرنا ہے۔ موجودہ امریکی انتظامیہ بھی اسی طریقے پر عمل پیرا ہے، جس سے حقیقی سفارت کاری کی گنجائش ختم ہو رہی ہے۔
جیفری ڈی ساکس نے کہا کہ خطے میں امن خفیہ آپریشنز کی بجائے کھلی سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی عسکریت کاری امن کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے شام کی جنگ کو اسرائیل کی فروغ دی گئی چھ جنگوں میں سے ایک قرار دیا، جن میں لبنان، عراق، لیبیا، صومالیہ اور سوڈان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق امریکی جنرل ویسلے کلارک نے 2001 میں پیش کی گئی ایک دستاویز میں ان جنگوں کا ذکر کیا تھا۔














