جھکنے پر سر درد کی شدت میں اضافہ، سائنوس، مائیگرین یا پانی کی کمی ممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
لاہور: (رائیٹ ناؤنیوز) اگر جھکتے ہی سر میں درد تیز ہوجاتا ہے تو اسے معمولی تھکن سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ سر درد اکثر تھکن، نیند کی کمی یا موسمی تبدیلی سے جوڑا جاتا ہے، لیکن سر کی پوزیشن بدلنے سے درد میں اضافہ ہونے پر وجہ جاننا ضروری ہے۔
سائنوسائٹس بھی جھکنے پر سر درد کی وجہ بن سکتا ہے۔ نزلہ، انفیکشن یا الرجی کی وجہ سے سائنوس میں سوجن پیدا ہوسکتی ہے جو جھکنے پر پیشانی، گالوں اور آنکھوں کے آس پاس دباؤ پیدا کرتی ہے۔
مائیگرین بھی جھکنے پر سر درد کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس میں دھڑکن جیسا درد ہوتا ہے اور متلی یا قے کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات ناک بند ہونے کی وجہ سے مائیگرین کو سائنوس کا درد سمجھ لیا جاتا ہے۔
جسم میں پانی کی کمی بھی سر درد کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر پانی نہ پیا جائے یا جسم میں نمکیات کی کمی ہو تو سر درد ہوسکتا ہے۔ پانی پینے کے باوجود درد جاری رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ بعض صورتوں میں جھکنے، کھانسنے یا زور لگانے سے کھوپڑی کے اندر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اگر درد کے ساتھ کمزوری، نظر میں خرابی یا گردن میں اکڑاؤ ہو تو فوری طبی مدد لینی چاہیے۔















