پاکستان میں 105 ضروری ادویات کی قیمتوں کی نظرثانی میں تاخیر سے شدید قلت پیدا ہوگئی ہے، جس سے جعلی ادویات کی فراہمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) پاکستان میں 105 اہم ادویات کی قیمتوں کی نظرثانی میں دو سال کی تاخیر کے باعث قلت پیدا ہوگئی۔ فارماسیوٹیکل صنعت کے ذرائع کے مطابق قیمتوں میں نظرثانی کی تجاویز حکومت کی منظوری کی منتظر ہیں۔ اس تاخیر کے باعث کمپنیوں کے لیے پیداوار جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔
ان ادویات کو ‘ہارڈ شپ کیٹیگری’ میں شامل کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کینسر اور امراض قلب جیسی بیماریوں کے علاج کی ادویات کی قلت ہوگئی ہے۔ یہ ادویات ملک بھر میں اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز پر دستیاب نہیں ہیں۔
پی سی ڈی اے کے چیئرمین عبدالصمد بدانی نے خبردار کیا ہے کہ ادویات کی طویل قلت سے جعلی ادویات کی فراہمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریض غیر معتبر ذرائع سے ادویات حاصل کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومتوں نے ہارڈ شپ کیٹیگری ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے فیصلوں میں تاخیر کی ہے۔ پی سی ڈی اے نے حکومت سے فوری منظوری کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ قیمتوں کی پالیسی کا مقصد ضروری ادویات کی دستیابی ہے۔ عبدالصمد بدانی نے حکام سے ادویات کی قلت کا مسئلہ حل کرنے کی اپیل کی ہے۔













