شوگر مافیا کی عوام کو لوٹنے کی داستان، چینی کی قیمتوں میں بےتحاشا اضافہ

آڈٹ حکام کے مطابق چینی کی برآمد کے باعث عوام پر 300 ارب روپے کا بوجھ پڑا۔ شوگر ملز کے خلاف مقدمات درج ہوئے اور 110 ارب روپے کی عوام کو لوٹنے کا شبہ ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
شوگر مافیا کی عوام کو لوٹنے کی داستان، چینی کی قیمتوں میں بےتحاشا اضافہ

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤنیوز) پاکستان میں چینی کی برآمد اور درآمد کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شوگر ملز مالکان نے چینی کی برآمد کے لیے 6 لاکھ 33 ہزار ٹن چینی کی اجازت کا مطالبہ کیا ہے۔

گزشتہ سال حکومت نے 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کی اجازت دی تھی۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹ میں چینی کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں 200 روپے فی کلو سے زیادہ ہو گئیں۔ حکومت نے 3 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کر کے قیمتیں کنٹرول کرنے کی کوشش کی، مگر ناکام رہی۔

مختلف شہروں میں چینی کی قیمتیں مختلف رہیں، جیسے کہ اسلام آباد میں 55 روپے اور لاہور میں 44 روپے فی کلو۔ آڈٹ حکام نے واضح کیا کہ اس عمل سے عوام پر 300 ارب روپے کا بوجھ ڈالا گیا۔

واضح رہے کہ 2015 سے 2020 کے درمیان چینی کی برآمد میں بڑے فراڈ کا انکشاف ہوا۔ حکومت نے 4 ارب 12 کروڑ کی سبسڈی دی جبکہ 7 لاکھ 78 ہزار میٹرک ٹن چینی کا ریکارڈ غائب رہا۔

یاد رہے کہ شوگر ملز مالکان 80 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار کا دعویٰ کر رہے ہیں اور 6 لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی فوری اجازت چاہتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت آئی ایم ایف کی شرط پوری نہیں کر سکی۔

دیگر متعلقہ خبریں