سینیٹ کی کمیٹی نے پاور ڈویژن کی توانائی منصوبوں کی نجکاری میں تاخیر پر شدید تنقید کی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے پاور ڈویژن کی جانب سے سرکاری توانائی منصوبوں کی نجکاری میں مسائل حل نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ چیئرمین سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ سنگل بائر ماڈل سے نکلنے کی کوشش نہ ہونے اور گیس کی محدود فراہمی کے باوجود پلانٹس کی فروخت کو گیس سے مشروط کرنا قابل وضاحت نہیں۔
جوائنٹ سیکریٹری غلام رسول نے بتایا کہ نندی پور سمیت پلانٹس کی نجکاری میں بڑا مسئلہ گیس سیلز اینڈ پرچیز معاہدے کا ہے، جبکہ گیس “جب دستیاب ہو” کی بنیاد پر دی جا رہی ہے، جو پیٹرولیم ڈویژن سے منسلک معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری سے متعلق شرائط کابینہ فیصلوں کے مطابق پوری کی جا رہی ہیں اور گیس فراہمی کے حوالے سے نیپرا، آئی ایس ایم او اور پیٹرولیم ڈویژن سے بات چیت جاری ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے تجویز دی کہ نجکاری کو دو مراحل میں تقسیم کیا جائے، پہلے مرحلے میں موجودہ گیس فراہمی برقرار رہے، جبکہ بعد از نجکاری خریدار حکومتی درآمدی پالیسی کے مطابق گیس خریدیں۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ اگر ماڈل وہی رہے تو نجکاری کا فائدہ کیا ہوگا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نندی پور کے نو میں سے آٹھ مراحل مکمل ہیں جبکہ گڈو کے نو میں سے پانچ مکمل ہوئے ہیں اور اسے گیس، چارجز، قرضوں اور زمین کی ملکیت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
چیئرمین نے سنگل بائر ماڈل کو غیر پُرکشش قرار دیتے ہوئے متبادل تجاویز مانگیں۔ سیکریٹری نجکاری نے کہا کہ نیپرا کے ساتھ تیار کردہ سی ٹی ڈی سی پلان پیش کرنے کے لیے تیار ہے اور آئیسکو، فیصل آباد الیکٹرک اور گوجرانوالہ الیکٹرک کی نجکاری سے متعلق رپورٹس متعلقہ اداروں کے جائزے میں ہیں۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ نیپرا، پیٹرولیم ڈویژن کے ڈی جی گیس اور پاور ڈویژن کے آئی ایس ایم او نمائندے کو آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے۔















