پاکستان کے موجودہ کھاتے کا خسارہ 733 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، درآمدات میں اضافہ اور برآمدات کی جمودی حالت وجہ بنی۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان کے موجودہ کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ 733 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو پچھلے سال کی نسبت 256 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ درآمدات میں 15 فیصد اور 12 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 26 فیصد کمی ہوئی ہے۔
ملک کی درآمدات میں اضافہ صنعتی سرمایہ کاری کی علامت نہیں بلکہ برآمدات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی کمی کے باعث ہے۔ سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی درآمدی فیصلے، اخراجاتی رجحانات اور برآمدات پر مبنی پالیسی کی عدم موجودگی نے ملک کی اقتصادی حالت کو مزید کمزور بنا دیا ہے۔
پٹرولیم اور ٹرانسپورٹ کی درآمدات جیسے شعبوں میں اضافہ، درآمدی رپورٹ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جو کہ خارجی آمدنی پیدا کرنے کے بجائے ملکی ذخائر کا بوجھ بڑھا رہے ہیں۔
پاکستان کو بیرونی استحکام برقرار رکھنے کے لیے درآمدی نظم و نسق کی ضرورت ہے۔ درآمدات کو قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ‘درآمد بر مبنی اہلیت’ ماڈل کی طرف منتقل ہونا ضروری ہے۔
برآمدی پالیسی میں فوری آزادانہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ خام مال کو برآمدی مصنوعات میں تبدیل کرنے والی صنعتوں کو کم ٹیکس بوجھ اور برآمدی مالیات کے ذریعے مراعات دی جانی چاہئیں۔
پاکستان کو اپنی موجودہ درآمدی پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہوگی تاکہ ملک کی بیرونی عدم توازن کو موقع میں تبدیل کیا جا سکے۔















