امریکا نے ایران پر حملے روک دیے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں کمی آئی ہے۔ عالمی معیشت پر اثرات اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے اس فیصلے کو متاثر کیا۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناؤ نیوز) امریکا نے دو ہفتے کی کشیدگی کے بعد ایران پر حملے روک دیے ہیں۔ اس اقدام نے دنیا بھر میں سوالات جنم دیے کہ آیا یہ مستقل تبدیلی ہے یا عارضی وقفہ۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی، عسکری اور معاشی وجوہات کا مجموعہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی معیشت کا دباؤ اور خلیجی اتحادیوں کے تحفظات اس میں شامل ہیں۔
امریکی صدر نے ایران کے خلاف حملے روکنے کا اعلان کیا، جس پر تہران نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں۔ عالمی تجارت پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان یہ تنازع اہمیت رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ جون میں ہونے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت جہاز رانی کے راستوں کے بارے میں اختلافات نے کشیدگی کو بڑھا دیا تھا۔















