امریکی عدالت نے عبوری حکم کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کی تارکین وطن پالیسی کو روکا ہے، جس سے ہزاروں افراد کا مستقبل محفوظ ہوا ہے۔
بوسٹن: (رائیٹ ناؤ نیوز) امریکا کی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو عارضی طور پر تارکین وطن کے ورک پرمٹ منسوخ کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے یہ عبوری حکم تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی درخواست پر جاری کیا۔
عدالت میں دائر درخواست کے مطابق امریکی شہریت و امیگریشن سروس کی نئی پالیسیاں قانونی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ عدالت نے ان پالیسیوں کو مزید عمل درآمد سے روک دیا ہے۔
جج نیتھنیئل گورٹن نے کہا ہے کہ یہ عبوری پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک عدالت حتمی فیصلہ نہیں کرتی۔ آئندہ فیصلہ 5 اگست تک متوقع ہے۔
یہ فیصلہ امیگریشن پالیسی پر جاری قانونی اور سیاسی کشمکش کا اہم مرحلہ ہے۔ ہزاروں تارکین وطن کے مستقبل کا انحصار حتمی عدالتی فیصلے پر ہوگا۔
یاد رہے کہ ٹی پی ایس ایک قانونی درجہ ہے جو ہنگامی حالات سے متاثرہ ممالک کے شہریوں کو امریکا میں عارضی طور پر رہنے کی اجازت دیتا ہے۔















