روئی کی پیداوار میں کمی سے پاکستان کو سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جس سے معیشت پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناؤنیوز) پاکستان میں روئی کی پیداوار اپنے عروج کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔ پیداواری کمی کے باعث ملک کو اضافی درآمدات اور برآمدی آمدنی میں کمی کے باعث سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی رپورٹ کے مطابق زرعی شعبہ ملکی قومی پیداوار میں 23 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی کمی کے بجائے ریگولیٹری منظوریوں میں تاخیر کی وجہ سے پیداوار متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کاٹن کی پیداوار، جو عروج پر 1 کروڑ 40 لاکھ گانٹھیں تھی، 2025-26 میں 68 لاکھ 50 ہزار گانٹھوں تک رہ گئی۔ حکومت کا ہدف 1 کروڑ گانٹھیں تھا جو 34 فیصد کم ہے۔
موسمیاتی تبدیلیاں، کیڑوں کے حملے اور ناقص بیجوں کا استعمال پیداوار میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔ ٹیکسٹائل شعبہ ملکی برآمدات کا 60 فیصد فراہم کرتا ہے، جس کا انحصار مقامی کاٹن پر ہے۔
واضح رہے کہ ہائبرڈ بیجوں نے مکئی کی پیداوار میں تین گنا اضافہ کیا ہے۔ تاہم، قومی بائیوٹیکنالوجی پالیسی کی منظوری میں تاخیر سے مکئی اور چارے کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔













