حوثیوں کے بحری ناکہ بندی کے اعلان سے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ باب المندب کی بندش عالمی توانائی مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
صنعا: (رائیٹ ناؤ نیوز) یمن کے حوثی گروپ انصار اللہ نے سعودی عرب پر بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام صنعا کے ہوائی اڈے پر حملے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔
حوثیوں کے اس اعلان نے ایران کی مدد یافتہ انصار اللہ اور سعودی اتحاد کے درمیان جاری جنگ میں نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ حوثیوں نے اسے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پالیسی قرار دیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز میں تناؤ جاری ہے۔ اس سے پہلے ہی عالمی توانائی مارکیٹ متاثر ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ حوثیوں نے سعودی عرب پر الزام لگایا کہ وہ 12 سال سے یمن پر ناکہ بندی مسلط کر رہا ہے۔ اس کا مقصد یمنی وسائل کی لوٹ مار بتائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ باب المندب آبنائے عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ حوثیوں کی ناکہ بندی سے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔















