ایپٹما کاکپاس کی بحالی اجلاس کے منٹس کو چیلنج

ایپٹما نے کپاس کی بحالی کے سرکاری منٹس کو چیلنج کر دیا، بیوروکریٹک مفادات کو ترجیح دینے کا الزام۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (ایپٹما) نے کپاس کی بحالی کے منصوبے کے حوالے سے جاری کردہ سرکاری منٹس کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دستاویز اجلاس میں طے پانے والے حقیقی اتفاق اور ہدایات کی عکاسی نہیں کرتی۔

ایپٹما کے مطابق، منٹس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق (MNFSR) کے بیوروکریٹک مفادات کو ترجیح دی گئی ہے، جس سے حکومت کی پالیسی کی سمت اور نائب وزیراعظم / وزیر خارجہ کے فیصلے کو غلط طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ایپٹما نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو خط لکھتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس پاکستان کے کپاس کے شعبے کی بحالی کے لیے اہم موڑ تھا۔

ایپٹما نے اپنے خط میں دعویٰ کیا کہ نائب وزیراعظم کی ہدایات، ادارہ جاتی اصلاحات اور پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی (PCCC) کی نمائندگی کے حوالے سے منٹس میں غلط یا حذف کر دی گئی ہیں۔ نائب وزیراعظم نے MNFSR کو کاٹن سیس ایکٹ کے قوانین میں ترمیم کی ہدایت دی تھی تاکہ ایپٹما اور دیگر نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کی زیادہ سے زیادہ نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایپٹما نے واضح کیا کہ نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیر MNFSR نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ سیس کی کل وصولیوں کا 70% حصہ تحقیق و ترقی (R&D) کے لیے مخصوص کیا جائے گا جبکہ 30% انتظامی اخراجات کے لیے مختص ہو گا۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ کپاس کی بحالی کے منصوبے کی قیادت نجی شعبے کے پاس ہونی چاہیے اور MNFSR کو ہدایت دی کہ ادارہ جاتی طریقہ کار کو حتمی شکل دیں۔ ایپٹما نے مطالبہ کیا ہے کہ نائب وزیراعظم کابینہ ڈویژن اور MNFSR کو ہدایت دیں کہ منٹس کو واپس لے کر دوبارہ جاری کریں تاکہ تمام ہدایات شامل کی جا سکیں۔

دیگر متعلقہ خبریں