امریکی فضائی حملوں کی دوسری لہر میں ایران کی فوجی تنصیبات نشانہ، آبنائے ہرمز میں تجارت کے تحفظ کی کوشش۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناؤ نیوز) امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کی دوسری لہر کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کی ان صلاحیتوں پر ہیں جو آبنائے ہرمز میں خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
حملوں کی دوسری لہر میں ایران کی وہ فوجی تنصیبات نشانہ ہیں جو عالمی تجارت کے لئے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز میں موجود ہیں۔ سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان حملوں کا مقصد بحری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت کے لئے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔ ان حملوں کا مقصد بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد حالات ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک ایران مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتا، حملے جاری رہیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔















