پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ کا رجحان بڑھ نے لگا

پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے، لیکن نقدی کا استعمال اب بھی عام ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں ای بینکنگ اور آن لائن ادائیگیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، تاہم زیادہ تر آبادی ابھی بھی نقدی کو ترجیح دیتی ہے۔ بڑے شہروں کے باہر نقدی کا استعمال برقرار ہے جبکہ شہری علاقوں میں چھوٹے تاجروں کے ہاں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال محدود ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق کراچی کے بڑے ریٹیل اسٹورز میں 30 تا 40 فیصد صارفین بینک کارڈ یا آن لائن ادائیگی کرتے ہیں، جبکہ چھوٹی دکانوں پر یہ شرح صرف ۵ فیصد کے قریب ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ عدم آگہی، ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقوں کی سمجھ نہ ہونا اور فراڈ کا خوف صارفین کے رویوں کو متاثر کرتا ہے۔

نوجوان، لیپ ٹاپ خریدار اور بڑے اسٹورز کے صارفین کیو آر کوڈ، بینک ٹرانسفر اور کارڈ ادائیگیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ سروس چارجز کے خاتمے کے بعد کارڈ ادائیگیاں مزید قابل عمل ہو گئی ہیں۔

جیز کیش اور ایزی پیسہ کے مطابق ان کے صارفین اور مرچنٹس کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیو آر لین دین 60 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں اور 2024 کے اختتام تک لین دین کی مجموعی مالیت ۹.۵ کھرب روپے رہنے کی توقع ہے۔

ایزی پیسہ کے حکام نے کہا کہ نقدی کی ادائیگی کو مہنگا کرنا ہوگا تاکہ صارفین ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف راغب ہوں۔ پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے مطابق کیوآر کوڈ ادائیگیاں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024۔2025 کی تیسری سہ ماہی میں ڈیجیٹل ادائیگیاں 2 ارب سے تجاوز کر گئیں۔ موبائل ایپس کے ذریعے 168 کروڑ ادائیگیاں 27 کھرب روپے کی مالیت کے ساتھ ریکارڈ ہوئیں۔

راست نظام کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سہ ماہی میں پی ٹو پی ادائیگیاں 36 کروڑ تک پہنچ گئیں جن کی مالیت 8 کھرب روپے رہی۔

دیگر متعلقہ خبریں