گردشی قرضہ پر قابو کے لئے 200 ارب روپے کی بجلی سبسڈی منظور

حکومت نے گردشی قرضے کی روک تھام کے لیے بجلی کے شعبے کو 200 ارب روپے کی سبسڈی منظور کر لی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
گردشی قرضہ پر قابو کے لئے 200 ارب روپے کی بجلی سبسڈی منظور [Draft]

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)حکومت پاکستان نے گردشی قرضے میں اضافے کے خطرے کے پیش نظر بجلی کے شعبے کے لیے 200 ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے کیا تاکہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے شدہ حدود کے اندر گردشی قرضے  کےحجم کوبرقرار رکھا جا سکے۔

وزارت خزانہ کے مطابق، ای سی سی نے 200 ارب روپے کی ضمنی گرانٹ منظور کی جس کا مقصد بجلی کے شعبے میں کیش فلو کے مسائل کو کم کرنا ہے۔ اس رقم میں سے 105 ارب روپے وزارت خزانہ فراہم کرے گی جبکہ باقی رقم بجلی کے شعبے کے لیے مختص سبسڈیز سے دی جائے گی۔

اکتوبر 2025 کے اختتام پر گردشی قرضہ 1 کھرب 81 ارب 70 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے، جو جون 2025 میں 1 کھرب 61 ارب 40 کروڑ روپے تھا۔ پاور ڈویژن کے مطابق، نومبر اور دسمبر 2025 کے دوران گردشی قرضہ دسمبر کے اختتام تک 2 کھرب 10 ارب 50 کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جون کے مقابلے میں گردشی قرضے میں 491 ارب روپے کا اضافہ متوقع ہے، جو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ حد سے زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت سے کہا ہے کہ گردشی قرضے کے بہاؤ کو 300 ارب روپے تک محدود رکھا جائے۔

ای سی سی کو آگاہ کیا گیا کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو بروقت ادائیگیاں نہ ہونے سے بجلی کی دستیابی متاثر ہوسکتی ہے، جس کا اثر مجموعی معاشی سرگرمیوں پر پڑے گا۔ اکتوبر 2025 تک آئی پی پیز کے واجبات 1 کھرب 7 ارب روپے ہو چکے ہیں، جو جون کے مقابلے میں 228 ارب روپے زیادہ ہیں۔

آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے لیے گردشی قرضے کے مجموعی بہاؤ کی حد 400 ارب روپے مقرر کی ہے، تاہم ای سی سی نے 522 ارب روپے کا زیادہ ہدف منظور کیا تھا۔

دیگر متعلقہ خبریں