جنرل فیض حمید کو فوجی عدالت نے سیاسی سرگرمیوں اور دیگر الزامات پر 14 سال قید کی سزا سنائی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان فوج کے سابق جنرل فیض حمید کو فوجی عدالت نے 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ انہیں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، اختیارات و وسائل کے ناجائز استعمال، افراد کو نقصان پہنچانے اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر سزا دی گئی ہے۔
فیض حمید نے نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنے کے دوران ثالثی کر کے اپنی پہچان بنائی۔ وہ سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی سمجھے جاتے تھے اور 2019 سے 2021 تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔
نومبر 2023 میں ایک شہری کی درخواست پر سپریم کورٹ نے ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ ‘ٹاپ سٹی’ کے مالک معیز احمد خان نے الزام لگایا کہ ان کی پراپرٹی پر چھاپہ مارا گیا اور قیمتی سامان لے جایا گیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد فوج نے کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی۔ فیض حمید پر آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزامات لگے۔
فوجی شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق، فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی 15 ماہ کی کارروائی ہوئی اور انہیں سزا سنائی گئی ہے۔















