نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ موبائل فون سے اسکرین شاٹ لینے سے یادداشت متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر جب تصاویر دوبارہ نہ دیکھی جائیں۔
نیو یارک: (رائیٹ ناؤ نیوز) موبائل فون کے ذریعے اہم لمحوں کی تصاویر یا اسکرین شاٹ محفوظ کرنا بظاہر مفید لگتا ہے، مگر نئی تحقیق کے مطابق یہ عمل بعض اوقات یادداشت کو کمزور کر سکتا ہے۔
تحقیق بِنگہیمٹن یونیورسٹی، امریکا کے شعبہ نفسیات سے وابستہ محققین نے کی۔ اس تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ یاد رکھنے کے لیے خود تصاویر کھینچتے ہیں، ان کو بعد میں ان تفصیلات کو یاد رکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔
یہ تحقیق جرنل میموری اینڈ کاگنیشن میں شائع ہوئی، جس میں اس رجحان کو ‘فوٹو-ٹیکنگ امپیئرمنٹ ایفیکٹ’ کہا گیا ہے۔ محققین نے بتایا کہ اگر تصاویر دوبارہ نہ دیکھی جائیں تو یادداشت متاثر ہوسکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کے فون میں ہزاروں تصاویر ہوتی ہیں۔ روزانہ مزید تصاویر شامل ہوتی ہیں، جو یادداشت کو تازہ کر سکتی ہیں، مگر صرف تصویر کھینچ کر چھوڑ دینا کافی نہیں۔
یاد رہے کہ محققین نے سات مختلف تجربات کیے، جن میں شرکا نے فن پاروں کی تصاویر بنائیں۔ نتائج دکھاتے ہیں کہ خود تصویر کھینچنے والوں کو معلومات یاد رکھنے میں مشکلات پیش آئیں۔















