ایران و امریکا کے درمیان ثالثی پیغامات کا تبادلہ، حملوں کے باعث خودمختاری خطرے میں

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ثالث ممالک کے ذریعے ایران و امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، مگر حملے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ایران و امریکا کے درمیان ثالثی پیغامات کا تبادلہ، حملوں کے باعث خودمختاری خطرے میں

تہران: (رائیٹ ناؤنیوز) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا ہے کہ پاکستان اور قطر سمیت ثالث ممالک ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ ایران کی اولین ترجیح اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آسٹریا کے نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کا وعدہ پورا کیا۔

تاہم، اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا نے بحری جہازوں کے واقعات کو جواز بنا کر نئے حملے کیے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں یہ تیسری بار ہے کہ مذاکرات کے دوران حملے کیے گئے۔ اس سے ایران کی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اب تک ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پاسداران انقلاب نے امریکی فوجی اڈوں پر حملوں میں 11 جنگی طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازعات کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ امریکا نے نئی فوجی کارروائیاں کرنے کی دھمکی دی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں