ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم میں یکطرفہ طاقت کے استعمال پر تنقید کی ہے، جسے عالمی فورموں پر امریکا کے اقدامات پر تنقید کا حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔
چولپون آتا (رائیٹ ناؤ نیوز): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایران نے کثیرالجہتی تعاون کو عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اجلاس کے دوران سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یکطرفہ پالیسیاں اور معاہدوں کی خلاف ورزیاں بین الاقوامی قانون کو کمزور کر رہی ہیں۔
اگرچہ بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، مگر ان کی ماضی کی تنقید امریکا کی خارجہ پالیسی پر رہی ہے۔ ان کا بیان عالمی فورمز پر امریکا کے اقدامات پر تنقید کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بنا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں ایک اہم سیاسی و اقتصادی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ اجلاس میں علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون پر غور کیا جائے گا۔















