حکومت کا آٹو پالیسی میں توسیع کا فیصلہ، نئی پالیسی پر مذاکرات ناکام

آئی ایم ایف اور ٹیرف پالیسی بورڈ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے پر حکومت نے موجودہ آٹو پالیسی میں توسیع کا فیصلہ کیا۔ نئی پالیسی کے تحت عالمی معیار کے سیفٹی اسٹینڈرڈز لازمی ہوں گے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
حکومت کا آٹو پالیسی میں توسیع کا فیصلہ، نئی پالیسی پر مذاکرات ناکام

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤنیوز) حکومت نے موجودہ آٹو پالیسی میں ایک سال کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف اور ٹیرف پالیسی بورڈ کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہ ہونے کے باعث نئی پالیسی مؤخر کر دی گئی ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار کے ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید مشاورت جاری رہے گی۔ آٹو ساز کمپنیاں برآمدات میں ناکام رہیں اور مقامی گاڑیوں کو عالمی معیار پر لانے میں مشکلات کا سامنا رہا۔

وزیراعظم نے آٹو پالیسی کو سرمایہ کار دوست بنانے کی ہدایت دی ہے۔ نئی پالیسی سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کی توقع ہے۔ مقامی گاڑیوں میں عالمی معیار کے سیفٹی اسٹینڈرڈز لازمی قرار دینے کی بھی تجویز ہے۔

نئی پالیسی کے تحت عالمی معیار کے سیفٹی تقاضے پورے نہ کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے عائد ہوں گے۔ الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات شامل ہوں گے۔ 62 عالمی سیفٹی اسٹینڈرڈز پر عملدرآمد لازمی ہوگا۔

یاد رہے کہ نئی آٹو پالیسی پر ایف بی آر، وزارت تجارت، وزارت قانون اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے مشاورت جاری ہے۔ اس پالیسی میں جدید ٹیکنالوجی، برآمدات اور سرمایہ کاری کے فروغ کا ہدف شامل ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں