ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف نے امریکا کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی پر سخت جواب کی تنبیہ کی، جبکہ دیگر ممالک ثالثی کر رہے ہیں۔
تہران: (رائیٹ ناؤنیوز) دو روزہ کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جھڑپیں رک گئیں، سفارتی سطح پر تکنیکی ٹیم کے بالواسطہ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ کوئی بھی جنگ ایران کی ہتھیار ڈالنے پر ختم نہیں ہوگی۔
باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی تو ایران ہمہ جہت دفاع کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران امن چاہتا ہے، مگر دباؤ یا معاہدے کی خلاف ورزی پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف وہی ملک امریکا کے ساتھ مؤثر مذاکرات کر سکتا ہے جو جنگ کے لیے بھی تیار ہو۔ ایران نے ہمیشہ مذاکرات کو سفارتی حل کا ذریعہ سمجھا ہے، لیکن یہ عمل دھمکی یا دباؤ میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر امریکا اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹا تو اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا پر ہوگی۔ متعدد ممالک ثالثی کر رہے ہیں تاکہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت بیانات دیے ہیں۔ مذاکرات جاری رکھنے کی آمادگی ظاہر کی مگر جنگ بندی کو ختم قرار دیتے ہوئے ایران کو سخت نتائج کی دھمکی دی۔















