مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی نگرانی کے باعث ملازمین ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو سکتے ہیں، جبکہ نوکریوں کا خاتمہ بھی جاری ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) مصنوعی ذہانت کے استعمال سے نوکریوں کے خاتمے کے ساتھ ملازمین کے ذہنی سکون پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی ملازمین کی نگرانی اور کارکردگی کی جانچ کے ذریعے کام کے دباؤ کو بڑھا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں خودکار نظام ملازمین کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے ان کی کارکردگی جانچیں گے، جس سے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو گا۔ بڑی کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت نئے مواقع پیدا کرے گی، مگر اس کے ساتھ ذہنی دباؤ بھی بڑھے گا۔
این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ نے کہا ہے کہ اے آئی پر مبنی معاون نظام ملازمین کو زیادہ مصروف اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ ماہرین نے اس مداخلت کو ‘ڈیجیٹل مائیکرو مینیجر’ قرار دیا ہے جو ملازمین پر مسلسل نظر رکھے گا۔
ماہرین کے مطابق، مسلسل ہدایات اور یاددہانیوں کے نتیجے میں ملازمین تھکن اور کام سے اکتاہٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر تنظیمِ نو کے باعث ملازمین کی برطرفیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ قلیل مدت میں کچھ شعبے متاثر ہو سکتے ہیں، مگر طویل مدت میں نئی مہارتوں کے حامل افراد کے لیے مواقع پیدا ہوں گے۔ ماہرین نے ‘کام سے رابطہ منقطع کرنے کے حق’ جیسے قوانین کے نفاذ پر زور دیا ہے تاکہ مسلسل نگرانی کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔















