آئی ایم ایف کی رئیل اسٹیٹ پر تشویش، مشکوک لین دین روکنے کا مطالبہ

آئی ایم ایف نے رئیل اسٹیٹ میں مشکوک لین دین پر تشویش ظاہر کی، قانونی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
رئیل اسٹیٹ میں مشکوک لین دین پر آئی ایم ایف کی تشویش، قانونی اصلاحات کا مطالبہ

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤنیوز) آئی ایم ایف نے پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک لین دین کی شکایات کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارہ نے ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور قانونی اداروں کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اصل مالکان کی معلومات کے تبادلے کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کی کم تعداد کے مسئلے کو حل کرنے اور قانونی اداروں کے غلط استعمال کو روکنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، حالیہ عرصے میں ریئل اسٹیٹ کی دو بڑی سوسائٹیوں پر ایف بی آر نے چھاپے مارے ہیں۔

اعلیٰ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے 1.1 ارب ڈالر کی چوتھی قسط جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ غیر مالیاتی کاروباری اداروں کی جانب سے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کی تعداد کم ہے۔

یہ معاملہ اس لئے اہم ہے کیونکہ ٹیکس چوری اور غیر قانونی دولت کا بڑا حصہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں لگایا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے نیشنل رسک اسیسمنٹ سے متعلق تازہ ترین معلومات بھی شیئر کی ہیں۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگست 2025 میں ایک جامع فریم ورک جاری کیا تھا تاکہ مجاز ڈیلرز کو منی لانڈرنگ کے خطرات کا جائزہ لینے میں مدد مل سکے۔ اس کے علاوہ، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کسٹمز کے ساتھ مالیاتی معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں