ایرانی رہنما نے امریکی وزیر خزانہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تیل کی قیمت 140 ڈالر تک جا سکتی ہے۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ ایران کے پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے تیل کی بڑھتی قیمتوں پر امریکی وزیر خزانہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی مشوروں نے تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچا دی ہے اور یہ 140 ڈالر تک جا سکتی ہے۔
قالیباف نے امریکی پابندیوں کے اثرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی تیل پیداوار متاثر نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تین دن میں کوئی کنواں خشک نہیں ہوا اور آئندہ 30 دن میں بھی ایسا ہونے کا امکان نہیں۔
امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران پر پابندیوں کی وجہ سے تیل کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے طویل مدتی اثرات ہو سکتے ہیں، جس کا ایران نے انکار کیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 8 فیصد اضافے کے ساتھ 121 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو چار سال کی بلند ترین سطح ہے۔
یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور امریکا-ایران تنازع تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات ہیں۔ امریکی پابندیاں ایران کے تیل ذخائر کو متاثر کر سکتی ہیں۔












