امریکی کانگریس میں ایران کے خلاف جاری جنگ پر وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ سے سخت سوالات کیے گئے، جنگی جواز اور حکمت عملی پر وضاحت طلب کی گئی۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ امریکی کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس میں وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور جنرل ڈین کین کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں پر وضاحت دینے کے لیے طلب کیا گیا۔ کمیٹی کے اراکین نے ان پر سخت سوالات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے جاری جنگ کے جواز پر سوال اٹھائے۔
کمیٹی اراکین نے یاد دلایا کہ ایران کا جوہری پروگرام سب سے بڑا خطرہ تھا، جسے آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے ذریعے ختم کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ سوال کیا گیا کہ جب یہ خطرہ ختم ہو چکا ہے تو جنگ کو جاری رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟
پیٹ ہیگستھ نے واضح جواب دینے کے بجائے کہا کہ ایران اپنے ارادوں سے باز نہیں آیا۔ جب ان سے جنگی حکمت عملی پر سوال ہوا تو وہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے، جس پر کانگریس مین سیتھ مولٹن نے انہیں مزید کڑے سوالات میں جکڑ لیا۔
مولٹن نے طنزیہ سوال کیا کہ کیا آبنائے ہرمز کی بندش کو فتح سمجھا جائے؟ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ہمارا محاصرہ ایرانی بندرگاہوں کو بند کر رہا ہے، جس پر مولٹن نے طنزاً کہا کہ محاصرے کا محاصرہ کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ سارہ جیکب نے بھی وزیر جنگ پر تنقید کی اور بتایا کہ جنگ میں 13 امریکی فوجی ہلاک اور 380 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے جنگ کے اربوں ڈالرز کے اخراجات اور ناکامی پر سوال اٹھائے۔













