ماہرین کے مطابق غلط سانس لینے کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ ناک سے گہرا سانس لینا اہم ہے۔
لندن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ماہرینِ طب کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد غلط طریقے سے سانس لیتے ہیں، جس کا اثر ان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر پڑتا ہے۔
طبی ماہرین نے اسے ‘بریدھنگ پیٹرن ڈس آرڈر’ کا نام دیا ہے۔ ڈاکٹر اسٹیفن فاؤلر کے مطابق، غلط سانس لینا اس حالت کو کہتے ہیں جب انسان کو سانس پھولنے یا سانس لینے میں مشکل ہو۔
چونکہ لوگ عام طور پر سانس لینے پر غور نہیں کرتے، بہت سے افراد کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا سانس لینے کا طریقہ درست نہیں ہے۔
غلط سانس لینے سے تناؤ، بے چینی اور گردن میں درد جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ناک سے گہرا، آہستہ اور خاموش سانس لینا اہم ہے۔
یاد رہے کہ سانس لینے کا درست عمل نہ صرف آکسیجن فراہم کرتا ہے بلکہ اعصابی نظام کو بھی سکون دیتا ہے، بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرتا ہے۔















