چینی صدر شی جن پھنگ نے بین الاقوامی قانون کی اہمیت پر زور دیا، جنگل کے قانون کی واپسی کا خدشہ ظاہر کیا۔
بیجنگ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چینی صدر شی جن پھنگ نے بین الاقوامی قانون کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس کی پاسداری نہ کی گئی تو دنیا جنگل کے قانون کی طرف لوٹ سکتی ہے۔
چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا نیوز کے مطابق صدر شی جن پھنگ نےمشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے تحفظ اور فروغ کے لیے چار نکات پیش کیے ہیں، جن میں پُرامن بقائے باہمی، قومی خودمختاری، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی اور ترقی و سلامتی کے درمیان متوازن حکمت عملی پر قائم رہنے پر زور دیا گیا۔
صدر شی جن پھنگ نے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے تحفظ و فروغ کے لیے چار تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بات پُرامن بقائے باہمی کے اصول پر قائم رہنا ہے، کیونکہ خلیجی ریاستیں ایک دوسرے کی قریبی ہمسایہ ہیں اور انہیں باہمی تعلقات بہتر بنا کر مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار علاقائی سلامتی کا ڈھانچہ تشکیل دینا چاہیے۔
دوسری تجویز قومی خودمختاری کے اصول سے متعلق ہے، جس کے تحت تمام ممالک خصوصاً ترقی پذیر ریاستوں کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے، جبکہ ان کے شہریوں، تنصیبات اور اداروں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
تیسری تجویز بین الاقوامی قانون کی حکمرانی پر زور دیتی ہے، جس میں اقوام متحدہ کو مرکز مانتے ہوئے بین الاقوامی نظام، بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی ترتیب اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی پاسداری کو ضروری قرار دیا گیا۔
چوتھی تجویز ترقی اور سلامتی کے درمیان متوازن حکمت عملی اپنانے کی ہے، کیونکہ سلامتی ترقی کی بنیاد ہے اور ترقی سلامتی کی ضمانت بنتی ہے، اس لیے تمام فریقوں کو خلیجی ریاستوں کی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا چاہیے، جبکہ چین نے بھی خلیجی ممالک کے ساتھ چینی طرز کی جدیدیت کے مواقع بانٹنے اور علاقائی ترقی و سلامتی کے لیے مشترکہ تعاون جاری رکھنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق شی جن پھنگ نے بیجنگ میں اماراتی ولی عہد سے ملاقات کے دوران پرامن بقائے باہمی کے اصول کو اپنانے پر زور دیا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں پائیدار سلامتی کے نظام کی تعمیر کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
چینی صدر نے قومی خودمختاری کے اصول کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خلیجی ممالک کو ترقی کے لیے مل کر سازگار ماحول پیدا کرنے کا مشورہ دیا۔
یہ بیان شی جن پھنگ نے ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی غرض سے دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے بغیر دنیا میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ چین عالمی سیاست میں اپنا کردار بڑھانے کے لیے مشرق وسطیٰ میں استحکام اور تعاون کی کوشش کر رہا ہے۔











