آڈیٹر جنرل نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاری میں ناکامی کو اجاگر کیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے اپنے اہداف پورے کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے گزشتہ تیرہ برس کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق، بورڈ نے ۲۰۱۹ کے ایکشن پلان میں تین برس میں سرمایہ کاری اور ملکی پیداوار کے تناسب کو ۲۰ فیصد تک پہنچانے کا ہدف رکھا تھا، لیکن اس سمت کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری مسلسل جمود کا شکار رہی ہے جو حکمت عملی اور عملدرآمد میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ادارے نے توانائی کی قلت، امن و امان کے مسائل اور عالمی معاشی دباؤ کو کارکردگی میں کمی کا جواز بنایا، لیکن آڈیٹر جنرل کے مطابق یہ عوامل اب محض بہانے بن چکے ہیں۔ ۲۰۱۵ سے ۲۰۱۸ کے دوران سرمایہ کاری کا ماحول نسبتاً بہتر تھا، جبکہ حالیہ برسوں میں اس میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
بورڈ آف انویسٹمنٹ کا مؤقف تھا کہ ۲۰۱۳ سے ۲۰۱۷ کے دوران سرمایہ کاری میں بتدریج اضافہ ہوا، لیکن بعد کی مسلسل گرتی شرح نے اس دعوے کو کمزور کر دیا ہے۔ آڈیٹر جنرل کا کہنا ہے کہ بورڈ اپنے بنیادی مینڈیٹ یعنی مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اجلاس میں کمیٹی ارکان نے بورڈ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ ادارے سے ۲۰۱۱۔۲۰۱۲ سے ۲۰۲۲۔۲۰۲۳ تک کی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ طلب کر لی ہے۔ واضح رہے کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کا بنیادی مقصد رکاوٹوں کا خاتمہ، سرمایہ کاری کا فروغ اور معاشی ترقی میں معاونت ہے۔















