پاکستان میں 80لاکھ افراد بے روزگار,شرح بڑھ کر7.1فیصد ہوگئی

پاکستان میں بے روزگاری 31 فیصد بڑھی، نوجوان زیادہ متاثر ہوئے۔ لیبر فورس سروے کے مطابق، ۴۵ لاکھ سے ۵۹ لاکھ افراد بے روزگار ہو گئے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں بے روزگار افراد کی تعداد 2020-21 سے 2024-25 تک 31 فیصد اضافے کے ساتھ 45 لاکھ سے بڑھ کر 59 لاکھ تک پہنچ گئی۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق، لیبر مارکیٹ میں دباؤ کے باعث تمام عمر اور صنفی گروہوں میں بیروزگاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، نوجوانوں میں بے روزگاری زیادہ ہے۔ 15 سے 24 سال کے گروہ میں شرح 11.1 فیصد سے بڑھ کر 12.6 فیصد ہوگئی، جبکہ 15 سے 29 سال کی عمر کے گروہ میں یہ شرح 10.3 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ مجموعی بیروزگاری کی شرح 6.3 فیصد سے بڑھ کر 7.1 فیصد تک جا پہنچی۔

مردوں میں بیروزگاری 5.5 فیصد سے بڑھ کر 5.9 فیصد جبکہ خواتین میں 8.9 فیصد سے بڑھ کر 9.7 فیصد تک جا پہنچی۔ دیہی علاقوں میں بیروزگاری کی شرح 5.8 فیصد سے بڑھ کر 6.3 فیصد اور شہری علاقوں میں 7.3 فیصد سے بڑھ کر 8 فیصد ریکارڈ ہوئی۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے لیبر فورس سروے کے مطابق، 10 سال اور اس سے زائد عمر کی آبادی میں لیبر فورس میں شمولیت 44.9 فیصد سے بڑھ کر 47.7 فیصد ہوگئی۔ مردوں کی شمولیت 67.9 فیصد سے بڑھ کر 69.8 فیصد اور خواتین کی 21.4 فیصد سے بڑھ کر 24.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

لیبر فورس کا مجموعی حجم 2020-21 کے 71.8 ملین سے بڑھ کر 2024-25 میں 85.6 ملین تک پہنچ گیا ہے، یعنی ہر سال اوسطاً 3.5 ملین افراد ورک فورس میں شامل ہوئے۔ پہلی بار سروے میں گیگ اکانومی سے متعلق اعداد و شمار شامل کیے گئے ہیں جن کے مطابق بنیادی ملازمتوں میں 2.9 فیصد اور ثانوی ملازمتوں میں 10.6 فیصد افراد قلیل مدتی کام کر رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، زرعی شعبے میں روزگار کا حصہ 37.4 فیصد سے کم ہو کر 33.1 فیصد رہ گیا، جبکہ خدمات کے شعبے میں اضافہ 37.2 فیصد سے بڑھ کر 41.2 فیصد تک ہوا۔ صنعتی شعبہ معمولی کمی کے ساتھ 24.9 فیصد رہا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اوسط ماہانہ اجرت 24 ہزار روپے سے بڑھ کر 39 ہزار روپے ہو گئی، جبکہ مرد و خواتین کے درمیان اجرت کا فرق بھی کم ہوا ہے۔ خواتین کی کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اپنی ذاتی کاوش پر کام کرنے والوں کا حصہ بھی بڑھا ہے۔

غیر زرعی روزگار میں غیر رسمی شعبہ بدستور غالب ہے اور 72.1 فیصد افراد اسی شعبے میں کام کر رہے ہیں، جن میں دیہی علاقوں میں یہ شرح زیادہ ہے۔ خواتین کی باضابطہ ملازمتوں میں شمولیت 33.7 فیصد جبکہ مردوں کی غیر رسمی روزگار میں شمولیت 73 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔

دیگر متعلقہ خبریں