امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے ٹیسلا کی سائبر کیب کی حفاظتی سرٹیفکیشن کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جس کا مقصد روڈ سیفٹی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی کی جانچ کرنا ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناؤ نیوز) امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے ٹیسلا کی نئی روبوٹیکسی ‘سائبر کیب’ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ جانچ کی جارہی ہے کہ آیا ٹیسلا نے اپنی گاڑیوں کو وفاقی موٹر وہیکل سیفٹی قوانین کے مطابق قرار دیتے وقت درست طریقہ کار اپنایا یا نہیں۔
ٹیسلا نے آسٹن، ٹیکساس میں دو نشستوں والی سائبر کیب کی محدود تجارتی سروس شروع کی ہے۔ ابتدائی طور پر گاڑیوں کی تعداد کم رکھی جائے گی اور بعد میں یہ سروس مزید گاڑیوں اور مقامات تک پھیلائی جائے گی۔
نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی کے مطابق سائبر کیب میں روایتی کنٹرول جیسے اسٹیئرنگ وہیل اور بریک پیڈل موجود نہیں ہیں۔ یہ خصوصیات تحقیقات کا اہم حصہ ہیں۔ ادارہ یہ جانچ رہا ہے کہ ٹیسلا نے کس بنیاد پر ان کنٹرولز کو ضروری نہیں سمجھا۔
یہ معاملہ اہم ہے کیونکہ امریکی حکومت خودکار گاڑیوں کے قوانین میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ جون میں نیشنل ہائی وے نے بریک پیڈل سے متعلق قانون میں تبدیلی کی تجویز دی تھی تاکہ مکمل خودکار گاڑیاں بغیر روایتی آلات کے سڑکوں پر چل سکیں۔
واضح رہے کہ ٹیسلا نے سائبر کیب کے لیے خصوصی استثنیٰ کی درخواست نہیں کی تھی۔ امریکی قانون کے تحت نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ادارہ سالانہ 2500 گاڑیوں کو محدود تعداد میں خصوصی اجازت دے سکتا ہے۔















