ساؤتھ ڈکوٹا میں سائنسدانوں کو ڈارک میٹر کی ممکنہ موجودگی کا سراغ ملا ہے، جسے کائنات کے پراسرار عنصر کی تلاش کی سمت میں اہم پیش رفت کہا جا رہا ہے۔
ساؤتھ ڈکوٹا: (رائیٹ ناؤ نیوز) ساؤتھ ڈکوٹا میں زمین کی گہرائی میں ہونے والے تجربے سے سائنسدانوں کو ڈارک میٹر کی موجودگی کا ممکنہ سراغ ملا ہے۔ یہ کائنات کے پراسرار عنصر کی تلاش میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم یہ ابھی حتمی دریافت نہیں ہے۔
یہ اعلان جاپان کی ایک سائنسی کانفرنس میں کیا گیا اور تحقیق کا مقالہ فزیکل ریویو لیٹرز میں جمع کرایا گیا ہے۔ اس تجربے کو امریکی محکمہ توانائی کی لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کے زیر انتظام کیا گیا۔
تجربے میں دس ٹن مائع زینان کے ذریعے ایک پراسرار ذرہ دیکھا گیا جس نے ایٹمی مرکزے سے تعامل کیا۔ اس تعامل سے الٹرا وائلٹ روشنی پیدا ہوئی، جو ویمپ ذرے سے متوقع تھی، جسے ڈارک میٹر کا امیدوار مانا جاتا ہے۔
ڈارک میٹر کائنات کے کل مادے کا 85 فیصد حصہ ہے، جو روشنی کو نہ ہی خارج کرتا ہے اور نہ ہی منعکس کرتا ہے۔ تاہم اس کی موجودگی کا اندازہ کہکشاؤں پر کشش ثقل کے اثرات سے لگایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ڈارک میٹر کی تلاش میں یہ پہلا اشارہ ہو سکتا ہے لیکن مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ سائنسدان مختلف طریقوں سے اس راز کو افشا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ کائنات کی سمجھ میں اضافہ ہو سکے۔















