اقوام متحدہ نے ایل نینو کی شدت میں اضافے کا انتباہ جاری کیا ہے، جس سے عالمی درجہ حرارت میں خطرناک اضافہ متوقع ہے۔
نیویارک: (رائیٹ ناؤنیوز) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کی شدت فروری 2027 تک برقرار رہ سکتی ہے، جس سے دنیا کے درجہ حرارت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارے نے کہا ہے کہ ایل نینو کے باعث شدید گرمی کی لہر ملکوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
ایل نینو کی وجہ سے بحرالکاہل کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جس سے عالمی درجہ حرارت میں 0.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یہ موسمیاتی رجحان سیلاب، خشک سالی اور گرمی کی شدت میں مزید اضافہ کرے گا۔
ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ ایل نینو کے اثرات سے عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیاں نمایاں ہو رہی ہیں، اور ان کی شدت اگلے مہینوں میں بڑھنے کی توقع ہے۔ ادارے نے مزید کہا کہ ایل نینو کے اثرات کا عروج 2027 تک جاری رہ سکتا ہے۔
یہ صورتحال عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت کو بڑھا سکتی ہے، جس سے مختلف خطے متاثر ہوں گے۔ خاص طور پر مون سون بارشوں میں کمی اور خشک سالی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایل نینو کی آخری لہر 2023 میں دیکھی گئی تھی، جس کے اثرات سے 2024 میں دنیا کا گرم ترین سال ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ایل نینو کے اثرات سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور موسمیاتی نظام میں نمایاں تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔














