ماہرین صحت کے مطابق راگی کا آٹا کیلشیم سے بھرپور ہے اور شوگر کنٹرول کے لیے بہترین ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) روٹی ہمارے روزمرہ کے کھانوں کا اہم حصہ ہے، لیکن ہر آٹا صحت کے لیے یکساں مفید نہیں ہوتا۔ مختلف آٹوں میں فائبر، پروٹین اور کیلشیم کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میدہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ اس میں فائبر نہیں ہوتا۔ اس کے استعمال سے خون کی شوگر اچانک بڑھتی ہے اور وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔
عام گیہوں کا آٹا میدے سے بہتر ہے، لیکن اس میں فائبر کم ہوتا ہے اور کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں۔ خاص طور پر موٹاپے اور شوگر کے مریضوں کے لیے یہ مناسب انتخاب نہیں ہے۔
باجرے اور جوار کے آٹے میں فائبر زیادہ ہوتا ہے اور یہ گلوٹین سے پاک ہوتے ہیں۔ یہ خون میں شوگر کی مقدار کو قابو میں رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ راگی کا آٹا صحت کے لیے بہترین ہے، کیونکہ اس میں کیلشیم زیادہ ہوتا ہے اور کاربوہائیڈریٹس آہستہ آہستہ جسم میں جذب ہوتے ہیں۔















