مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر سے پانی کی کھپت میں اضافہ، ماہرین کی تشویش

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے انفراسٹرکچر سے پانی کی کھپت میں اضافہ ماہرین کی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ اس سے ماحولیاتی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر سے پانی کی کھپت میں اضافہ، ماہرین کی تشویش

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کے بڑھتے استعمال سے پانی کی کھپت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس سے ماہرین میں تشویش پائی جاتی ہے۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال سے دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان سینٹرز میں پانی کی کھپت بڑھنے سے ماحولیاتی خطرات بڑھ گئے ہیں۔

ڈیٹا سینٹرز میں سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کولنگ سسٹمز میں پانی استعمال ہوتا ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں پہلے ہی پانی کی قلت ہے، یہ سینٹرز آبی وسائل پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے ماحولیاتی اثرات کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ نئے منصوبوں میں ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں