پیٹرولیم ڈیلرز اور حکومت کے مذاکرات ناکام ہوگئے، ہڑتال سے ایندھن کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے، حکومت قیمتوں کے یومیہ تعین میں تبدیلی پر آمادہ نہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤنیوز) پیٹرولیم ڈیلرز اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام رہے، جس کی وجہ سے ڈیڈلاک بدستور قائم ہے۔ پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ تعین کے فیصلے کو واپس لینے پر آمادہ نہیں ہے۔
گزشتہ روز پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد اور وزارتِ پیٹرولیم کے درمیان 5 گھنٹے کی طویل مذاکرات ہوئے، لیکن ہڑتال ختم کرنے پر اتفاق نہ ہوسکا۔ وزیر پیٹرولیم نے ڈیلرز کے 72 گھنٹے کے الٹی میٹم پر ناراضی کا اظہار کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں فی لیٹر 1 روپیہ 34 پیسے اضافے کی پیشکش کی ہے، لیکن اس کی منظوری وفاقی کابینہ کی اجازت سے مشروط ہے۔
مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے پیٹرولیم ڈیلرز نے کراچی واپسی کا فیصلہ کیا ہے اور کراچی میں ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔ پی پی ڈی اے کے مطابق پیٹرولیم ڈیلرز ہفتے کی صبح ہڑتال کے فیصلے پر قائم ہیں۔
یاد رہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال سے ملک میں ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔














