ایڈنبرگ یونیورسٹی کی تحقیق میں درمیانی عمر کے افراد میں نیند کے ناقص معیار کو تھکاوٹ کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے، جو روزگار سے جڑے تناؤ سے متاثر ہوتا ہے۔
اسکاٹ لینڈ: (رائیٹ ناؤنیوز) ایڈنبرگ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق 7 سے 8 گھنٹے نیند کے باوجود تھکاوٹ کی وجہ ناقص نیند کا معیار ہو سکتا ہے۔ تحقیق میں درمیانی عمر کے 10 میں سے 7 افراد کو بے خوابی یا سلیپ اپنیا کا سامنا پایا گیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ انٹرنیٹ پر زیادہ وقت گزارنا اور روزگار سے جڑا تناؤ نیند کو متاثر کرتے ہیں۔ سلیپ اپنیا کے شکار افراد کی سانس نیند کے دوران رکتی ہے، جس سے خراٹوں اور طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔
محققین نے کہا کہ نیند کی کمی درمیانی عمر کے افراد میں ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے، جس کی وجہ روزگار سے جڑا تناؤ ہے۔ ناقص نیند کے نتیجے میں ڈیمینشیا، ڈپریشن اور کینسر جیسے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
واضح رہے کہ اس تحقیق میں 50 سے 66 سال کی عمر کے افراد شامل تھے، جن کی صحت اور نیند کا جائزہ ایک سال تک لیا گیا۔ اسمارٹ واچز اور سوالناموں سے تفصیلات حاصل کی گئیں، جن سے نیند کے مسائل کی نشاندہی ہوئی۔
یاد رہے کہ محققین نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (Artificial Intelligence) ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے نیند متاثر ہونے کے عوامل کی نشاندہی کی، جن میں تناؤ، غذا، ورزش اور آواز کی آلودگی شامل ہیں۔















