ہوٹل بوفے کا بچا کھانا ضائع یا عطیہ؟ ماہرین کی تجاویز

ہوٹل بوفے کا بچا کھانا ضائع یا عطیہ؟ ہوٹل انتظامیہ مقامی قوانین کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ہوٹل بوفے کا بچا کھانا ضائع یا عطیہ؟ ماہرین کی تجاویز

کراچی: (رائیٹ ناؤنیوز) ہوٹلوں کے بوفے میں اکثر لذیذ کھانے پیش کیے جاتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ بوفے ختم ہونے کے بعد بچا کھانا کیا ہوتا ہے؟ ہوٹل انتظامیہ اپنی پالیسیز اور مقامی قوانین کے مطابق کھانے کے استعمال کا فیصلہ کرتی ہے۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، ہوٹل بچا کھانا تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلا وہ جو کچن میں تیار ہوتا ہے لیکن بوفے میں پیش نہیں کیا جاتا، دوسرا وہ جو بوفے میں پیش ہوتا ہے اور تیسرا مہمانوں کی پلیٹوں میں بچا کھانا ہے۔

بوفے میں پیش کھانا بوفے کے بعد ضائع ہوتا ہے تاکہ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی نہ ہو۔ بعض اوقات محفوظ کھانے کو فلاحی اداروں کو عطیہ کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بچا کھانا کمپوسٹ یا بائیو گیس بنانے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، جس سے ماحول پر منفی اثرات کم ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، ہوٹل اب کھانے کے ضیاع کو کم کرنے کے لئے پیشگی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس میں مصنوعی ذہانت کا استعمال شامل ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں