مون سون میں فالج کے خطرات کیوں بڑھتے ہیں؟ ماہرین کی اہم احتیاطی تدابیر

ماہرین صحت نے مون سون میں فالج کا خطرہ بڑھنے پر احتیاطی تدابیر اپنانے کی تاکید کی ہے۔ یہ موسم بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کے لیے خاص طور پر خطرناک ہو سکتا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
مون سون میں فالج کے خطرات کیوں بڑھتے ہیں؟ ماہرین کی اہم احتیاطی تدابیر

کراچی: (رائیٹ ناؤ نیوز) مون سون کی بارشیں جہاں گرمی سے نجات دلاتی ہیں، وہیں صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ موسم کچھ افراد کے لیے اضافی احتیاط کا مطالبہ کرتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق مون سون کے دوران ہوا میں نمی کا اضافہ، اچانک موسمی تبدیلی اور انفیکشنز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جنہیں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس یا دل کے امراض ہیں، زیادہ محتاط رہیں۔

نیورولوجی ماہرین نے بتایا کہ بارشوں کے دوران درجہ حرارت اور نمی میں تبدیلیاں جسم کے نظام کو متاثر کرتی ہیں۔ یہ صورتحال خون کی شریانوں کے مسائل میں مبتلا افراد میں فالج کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔

ماہرین صحت نے کہا کہ مون سون میں وائرل انفیکشنز، نزلہ، کھانسی اور معدے کی خرابی جیسے مسائل عام ہیں۔ یہ مسائل بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ماہرین فالج کی ابتدائی علامات کے لیے ‘بی ای ایف اے ایس ٹی’ اصول پر عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہ علامات شامل ہیں جسمانی توازن کا خراب ہونا، بینائی میں تبدیلی، چہرے کا جھک جانا، اور بولنے میں دشواری۔

دیگر متعلقہ خبریں